ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مدھیہ پردیش میں 60 لاکھ جعلی ووٹرس؛ ایک فوٹو پر 36 شناختی کارڈس، تو دوسرے فوٹو پر 21 شناختی کارڈس؛ کیا یہی ہے بی جے پی کی جیت کا راز ؟

مدھیہ پردیش میں 60 لاکھ جعلی ووٹرس؛ ایک فوٹو پر 36 شناختی کارڈس، تو دوسرے فوٹو پر 21 شناختی کارڈس؛ کیا یہی ہے بی جے پی کی جیت کا راز ؟

Sun, 03 Jun 2018 00:28:13    S.O. News Service

بھوپال 2/جون (ایس او نیوز) معروف نیوز چینل این ڈی ٹی وی نے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے خبر دی ہے کہ  مدھیہ پردیش میں ایک ہی تصویر کے ساتھ کئی کئی شناختی کارڈ جاری  جانے کی بات معلوم ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک پولنگ بوتھ پر ایک جیسی تصویر 23 ووٹروں کے نام پر فراہم کی گئی ہے، تو دوسری ایک فوٹو پانچ پانچ ، چار چار الگ الگ ناموں سے فراہم کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک شناختی کارڈ پر ایک فوٹو  کے ساتھ نام فوزیہ چھپا ہے تو اُسی فوٹو کے ساتھ دوسرے شناختی کارڈ میں اُس کا تبدیل ہوکر دلیپ، اور پرکاش کے نام پر جاری ہوا ہے۔ پھر یہی فوٹو والا شناختی کارڈ دوسرے پولنگ بوتھ بھی 13 الگ الگ ناموں سے ملے ہیں۔این ڈی ٹی وی نے ان   گڑبڑیوں والی ووٹر لسٹ کو دی پولٹیکس ڈاٹ اِن کے ذریعے اپنے ہاتھ لگنے کا تذکرہ کیا ہے۔ اور جب انہوں نے اس تعلق سے  الیکشن کمشنر  سے رابطہ کیا تو انہوں نے ان خامیوں کو قبول کرتے ہوئے  لسٹ سے خامیوں کو دور کرنے کی بات کہی ہے۔

بھوجپور اسمبلی کے ووٹر  سینٹر 245 میں ووٹر کارڈ نمبر IJP 3297140 والے دیو چند  اسی بوتھ  پر IJP  3297249 سے مکیش کمار ہوگئے. بوتھ نمبر 270 میں یہی تصویر  تین الگ الگ  ناموں سے  ہے. پولنگ بوتھ نمبر 272 پر دو نام سے بوتھ نمبر 273 میں چار نام سے تو 275 میں دو نام سے 276 میں بھیم سین نام سے تو بوتھ نمبر 280 میں تین تین الگ الگ ناموں سے ہے.

بھوجپور پولنگ بوتھ نمبر 199 ووٹر کارڈ نمبر IJP 3488426 نام فوزیہ  خان، یہی تصویر ووٹر کارڈ نمبر IJP 3489499 پر پرمیلا  ہے رپورٹ میں اس بات پر حیرت کا اظہار کیاگیا ہے کہ خاتون کی تصویر کے ساتھ اگلے شناختی کارڈ میں یہی نام تبدیل ہوکر پرکاش اور دلیپ سنگھ کے نام سے ہے. رپورٹ کے مطابق  پولنگ اسٹیشن نمبر 200 میں یہی تصویر 13 مزید جگہوں پر دیکھی گئی ہے اور ہر کارڈ الگ الگ ناموں سے بنایا گیا ہے۔ یعنی ایک فوٹو پر 36 کارڈ جاری کئے گئے ہیں اور ہر کارڈ پر الگ الگ نام ہیں۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ ہماچل پردیش میں ایسے ایک اور دو نہیں بلکہ 60 لاکھ فرضی ووٹرس ہیں جسے سرکار نے انتظامیہ کی مدد سے تیار کئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ  ان  دستاویزوں کا پلندہ لے کر دہلی جائیں گے. کانگریس کے ترجمان مانک  اگروال نے کہا، 'ایک فوٹوہے اور 40 لوگ ووٹنگ کررہے  ہیں، اس میں مرد بھی ہیں، خواتین بھی ہیں. یہ پورے  مدھیہ پردیش میں ہوا ہے،اور ہمارے پاس موجود معلومات کے مطابق  60 لاکھ جعلی ووٹ تیار  کیے گئے ہیں، تمام کلیکٹروں کا   استعمال کیا گیا ہے اور یہ سب  بی جے پی سرکار کے حکم  پر ہوا ہے۔

واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد اب بی جے پی   بھی کہہ رہی  ہے کہ ایسی لسٹوں  کی جانچ ہونی چاہئے  اور خامیوں کو دور کیا جانا چاہئے۔  پنچایت اور دیہی ترقی کے وزیر مملکت وشواس  سارنگ نے کہا، 'ووٹر لسٹ میں غلطی ہے تو اس کو صحیح کیا جائے لیکن کہا جاتا ہے کہ ووٹر لسٹ بریک  نہیں ہو سکتا یہ بھی جانچ  کا موضوع ہے. اس میں  حکومت یا حکومتی انتظامیہ کا لینا دینا نہیں ہےالیکشن کمشنر کو جانچ کرنی چاہئے ۔ 


Share: